Rohengia Muslims
روہنگیا مسلمان برما یعنی موجودہ مینمار میں رہنے والا ایک انسانی گروہ ہے۔ جو ایک اندازے کے مطابق بارویں صدی سے برما کے مغربی ساحلی علاقے راکھین میں آباد ہے اسے دنیا آج سٹیٹ لیس پیپلز یا پھر سب سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار اقلیت کے طور پر جانتی ہے۔
یوں تو اس مظلوم انسان گروہ پر ظلم ستم کی داستان طویل بھی ہے اور قدیم بھی ہے لیکن حالیہ کچھ دہائیوں سے ان مظلوموں پہ وہ ستم ڈھائے گئے جن کی انسان تاریخ میں مثال شاید ہی ملتی ہو۔
ستر کی دہائی کے اوائل سے آغاز ہونے والی ریاستی دہشتگردی اور فوجی کریک ڈاؤن نے ان مظلوموں کا جینا تو عذاب بنا ہی رکھا تھا لیکن انیس سو بیاسی میں شہریت کے حوالے سے پاس ہونے والے ایک بل نے ان مظلوموں کو سٹیزنشپ نام کی آخری سہولت سے بھی محروم کر دیا ۔اس دن سے یہ مظلوم در بہ در کی ٹھوکریں کھاتے، اس دنیا میں اپنا ٹھکانہ تلاشتے دنیا کے مردہ انسانی ضمیر کے جاگنے کی آس لیے بیٹھے ہیں۔لیکن ان کے لئے ہر آنے والا دن پہلے سے بھی کٹھن ثابت ہوا۔
دو ہزار سولہ سے روہنگیا مسلمانوں پہ شروع ہونے والے ظلم و ستم کی نئی لہر دراصل ٹیسٹ کیس تھا اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کا؟ انسانیت کی علمبردار طاقتوں کا؟ مسلم امہ کا؟ امن کی نوبل انعام یافتہ خاتون اینگ سانگ سوچی کا ؟ لیکن اس ٹیسٹ کیس میں انسانیت اور اخلاقیات کی ہار ہوئی، مفادات و بربریت کی جیت ہوئی۔
مورخ لکھے گا جب برما میں انسانیت سسک رہی تھی تب انسانیت کی علمبردار قوتیں گونگی اور بہری تھیں۔ تب مفادات مقدس سمجھے جا چکے تھے۔ ویسے بھی راکھین میں نہ تو تیل کا کنویں تھے، نہ ہی کوئی معدنی وسائل تھے اور نہ ایسی جیوگرافک لوکیشن تھی۔ تب ایسے میں ان پر کون سے انسانی حقوق کا اطلاق ہوتا؟
تاریخ دان شاید یہ بھی لکھے گا۔ جب برما میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی عصمت دری عروج پر تھی ایسے میں مسلمان ملک مڈل ایسٹ میں اپنے اپنے فرقے کی بالا دستی کی عظیم جنگیں لڑ رہے تھے۔
ایسے میں انصاف پسند مورخ گیمبیا کو انسانی حقوق کا پاسبان لکھے گا اور انسانی تاریخ میں یہ سبق بھی درج کرے گا کہ حق و سچ کی لڑائیاں فوجی و معاشی طاقتوں کے بل بوتے پر اور نہ ہی بڑے بڑے رقبوں کی بنیاد پہ لڑی جاتی ہیں بلکہ ایسی لڑائیوں کے لیے بلند کردار حوصلہ اور جرات درکار ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالی کسی کسی کو عطا کرتا ہے۔
عالمی عدالت انصاف کا حالیہ ماہ میں برما میں نسلی کشی کے حوالے سے دیا جانے والا فیصلہ شاید دم توڑتی انسانیت کی مثال بھی ہے اور شاید الارم بھی ہے۔ اگر اس فیصلے پر عمل درامد نہ کروایا گیا تو شاید آنے والے کچھ عرصے میں حرص لالچ اور مفادات تو دنیا میں زندہ رہ جائیں لیکن انسان اور انسانیت ہمیشہ کے لئے مر جائیں گی۔
Written by Saqib kiani

Allah pak barma k musulmanon ki gaibana madod furma Muslim umma ko jaga day
ReplyDeleteAmeen
Delete